
پریشانی، غم اور ڈپریشن کے خاتمے کی دعا
ایک ایسی دعا جو دل کو اللہ سے جوڑ دیتی ہے اور زندگی بدل سکتی ہے
زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب دل بے حد بوجھل ہو جاتا ہے…
فکر، غم، پریشانی اور بے چینی انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔ کبھی حالات سمجھ نہیں آتے، کبھی مستقبل کا خوف، اور کبھی دل کا درد انسان کو خاموش کر دیتا ہے۔
ایسے وقت میں ایک مومن کے لیے سب سے بڑا سہارا اللہ سے دعا ہے۔
جب دنیا سمجھ نہ آئے تو اللہ کے سامنے دل کھول دیں، کیونکہ وہی دلوں کے حال جانتا ہے اور وہی سکون عطا کرتا ہے۔
صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص پریشانی، غم یا تکلیف میں مبتلا ہو اور یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم دور فرما دیتا ہے اور اس کی جگہ خوشی اور راحت عطا کرتا ہے۔”
(مسند احمد — صحیح)
یہ ایک عظیم اور طاقتور دعا ہے جو دل کو اللہ سے جوڑ دیتی ہے اور انسان کو روحانی سکون عطا کرتی ہے۔
پریشانی اور غم دور کرنے کی مسنون دعا
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یا غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطا فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي
”اے اللہ! میں آپ کا غلام ابن غلام ہوں، آپ کی باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو آپ نے اپنے لئے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنا دیں“،
کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس دعا کو سیکھ لیں؟
فرمایا: ”کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔“
[مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3712]
اس دعا کی روحانی طاقت
یہ دعا صرف الفاظ نہیں بلکہ مکمل سپردگی کا اعلان ہے۔
اس میں بندہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، اس کی زندگی اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ کا ہر فیصلہ عدل اور حکمت پر مبنی ہے۔
جب بندہ یہ دعا پڑھتا ہے تو اس کا دل اللہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
قرآن دل کے لیے بہار بن جاتا ہے، سینے کے لیے نور اور زندگی کے اندھیروں کے لیے روشنی۔
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
ہر مشکل میں حکمت ہے
ہر آزمائش میں خیر ہے
اور ہر غم کے بعد آسانی ہے
یہ دعا کب پڑھیں؟
-
جب دل پریشان ہو
-
جب بے چینی یا ڈپریشن محسوس ہو
-
جب زندگی مشکل لگے
-
نماز کے بعد
-
تہجد کے وقت
-
یا کسی بھی وقت جب دل سکون چاہے
اس دعا کو سمجھ کر، یقین کے ساتھ اور عاجزی سے پڑھیں۔ دل سے مانگی گئی دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
اللہ سے بات کریں — اکیلے نہ رہیں
اللہ وہ ذات ہے جو دلوں کو بدل دیتا ہے، اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے اور غم کو سکون میں بدل دیتا ہے۔
جب آپ اللہ سے بات کرتے ہیں تو آپ کبھی تنہا نہیں ہوتے۔
وہ آپ کے دل کے قریب ہے، آپ کی خاموش دعاؤں کو بھی سنتا ہے
اپنے دل کو اللہ سے جوڑ لیں۔
قرآن کو اپنا ساتھی بنائیں۔
اور یقین رکھیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام غم دور فرمائے، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرمائے اور قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار بنا دے۔
آمین یا رب العالمین




